انگور کی بیلوں میں لپٹا ہوا شہر میری کھڑکی سے ایک شہر نظر آتا تھا
انگور کی بیلوں میں لپٹا ہوا شہر
میری کھڑکی سے ایک شہر نظر آتا تھا۔
اونچے سفیدے اور دیودار کے درخت،سائکل چلاتے ہوئے چھابڑی والے،چست لباس پہنےگلیوں میں منڈلاتی لڑکیاں،محلے کی نکڑ پر باتوں کے پنجروں میں پھڑپھڑاتے بوڑھے،چھوٹی چھوٹی دکانوں میں بیٹھےخلاوں میں گھورتے دکاندار۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میری کھڑکی سے ایک پورا شہرنظر آتا تھا۔ ایسے میں جب ایک انگور کی بیل نے بڑھتے بڑھتے کھڑکی کے کونے سے جھانکاتو وہ مجھے کسی مہیب اژدہے کی طرح نظر آئی جو پورے شہر کو کھانے چلا آتا تھا۔میں بہت چلایا۔میں نےہر ممکن طریقے سے شہر کے لوگوں کو متنبع کرنے کی کوشش کی۔
مگر شیشے کے پیچھے سے میری آواز بہت مدھم ہو جاتی تھی اور پھر باہر شور بھی تو کتنا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔چھابڑی والوں صدائیں، رکشاوں کا شور،ورکشاپوں سے امڈتی مستریوں کی پکار۔۔۔۔۔
ایسی ہڑبونگ میں ایک بوسیدہ گھر کی بند کھڑکی کے پیچھے چلاتے بوڑھے کی صدا کون سنتا؟
پھر بھی کبھی کبھار مجھے لگا جیسے کسی گذرتے راہگیر نے میری آوازسنی ہواور وہ چلتے چلتے ٹھہر گیا ہو اوراسنے رک کر شائید مجھے دیکھا بھی ہو۔اور ہماری آنکھیں ایک لمحے کو گویا ملی بھی ہوں۔۔۔۔۔۔
پر پھر وہ کچھ بڑبڑائے۔کچھ دیر منتظر رہے اور کندھے اچکا کر چل دیے۔پتہ نہیں وہ کیا کہ رہے تھے؟ شیشے کے پیچھے دورنیچے گلی سے آتی آواز بڑی مدھمہو جاتی ہے۔ پر پتہ نہیں کیوں مجھے احساس ہوتا تھا جیسے وہ کہتے ہوں کہ ’’بابا جی! ایکاژدہا تیرے گھر کو کھائے جاتا ہے۔ کوئی جتن کر سکتے ہو تو کر لو
Comments
Post a Comment