ایک شخص کے ہاں صرف بیٹیاں تھیں، اور ہر مرتبہ اس کو امید ہوتی کہ اب تو بیٹا پیدا ہوگا۔مگر ہر بار بیٹی ہی پیدا ہوتی

ایک شخص کے ہاں صرف بیٹیاں تھیں، اور ہر مرتبہ اس کو امید ہوتی کہ اب تو بیٹا پیدا ہوگا۔مگر ہر بار بیٹی ہی پیدا ہوتی اس طرح اس کے ہاں یکے بعد دیگرے چھ بیٹیاں ہو گئیں ... اس کی بیوی کے ہاں پھر ولادت متوقع تھی وہ ڈر رہا تھا کہ کہیں پھر لڑکی پیدا نہ ہو جائے، شیطان نے اس کو بہکایا چنانچہ اس نے ارداہ کر لیا کہ، اب بھی لڑکی پیدا ہوئی تو وہ اپنی بیوی کو طلاق دے دے گا ... رات کو سویا تو اس نے عجیب وغریب خواب دیکھا اس نے دیکھا کہ قیامت برپا ہو چکی ہے اس کے گناہ بہت زیادہ ہیں جن کے سبب اس پر جہنم واجب ہو چکی ہے۔ لہٰذا فرشتوں نے اس کو پکڑا اور جہنم کی طرف لے گئے پہلے دروازےپر گئے۔ تو دیکھا کہ اس کی ایک بیٹی وہاں کھڑی تھی جس نے اسے جہنم میں جانے سے روک دیا۔ فرشتے اسے لے کر دوسرے دروازےپر چلے گئے وہاں اس کی دوسری بیٹی کھڑی تھی جو اس کے لئے آڑ بن گئی۔ اب وہ تیسرے دروازے پر اسے لے گئے، وہاں تیسری لڑکی کھڑی تھی جو رکاوٹ بن گئی۔ اس طرح فرشتے جس دروازے پر اس کو لے کر جاتے، وہاں اس کی ایک بیٹی کھڑی ہوتی جو اس کا دفاع کرتی اور جہنم میں جانے سے روک دیتی ... غرض یہ کہ فرشتے اسے جہنم کے چھ دروازوں پر لے کر گئے مگر ہر دروازے پر اس کی کوئی نہ کوئی بیٹی رکاوٹ بنتی چلی گئی۔ اب ساتواں دروازہ باقی تھا فرشتے اس کو لے کر اس دروازے کی طرف چل دیئے۔ اس پر گھبراہٹ طاری ہوئی کہ اس دروازے پر میرے لئے رکاوٹ کون بنے گا ... اب اسے معلوم ہو گیا کہ جو نیت اس نے کی تھی غلط تھی وہ شیطان کے بہکاوے میں آگیا تھا۔ انتہائی پریشانی اور خوف و دہشت کے عالم میں اس کی آنکھ کھل چکی تھی، اور اس نے رب تعالٰی کے حضور اپنے ہاتھوں کو بلند کیا اور دعا کی :
" اللھم ارزقنا السابعۃ "
" اے اللہ مجھےساتویں بیٹی عطا فرما "

میرے نہایت ہی محترم و قابل قدر قارئین کرام المختصر و حاصل تحریر یہ کہ، جن لوگوں کا قضا و قدر پر ایمان ہے انہیں لڑکیوں کی پیدائش پر رنجیدہ خاطر ہونے کی بجائے خوش ہونا چائیے۔ ایمان کی کمزوری کے سبب جن بدعقیدہ لوگوں کا یہ تصور بن چکا ہے کہ لڑکیوں کی پیدائش کا سبب ان کی بیویاں ہیں، عزیز دوستو یہ سرا سر غلط ہے اس میں بیویوں کا، یا خود ان کا کوئی عمل دخل نہیں۔ بلکہ میاں بیوی تو صرف ایک ذریعہ ہیں۔ پیدا کرنے والی ہستی تو صرف اللہ وحدہ لاشریک ہے ... وہی جس کو چاہتا ہے لڑکا دیتا ہے جس کو چاہتا ہے لڑکی دیتا ہے جس کو چاہتا ہے لڑکے اور لڑکیاں ملا کر دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے بانجھ بنا دیتا ہے ایسی صورت میں ہر مسلمان پر واجب ہے اللہ تعالی کی قضا و قدر پر راضی ہو عزیز دوستو اللہ تعالٰی سورۃ شوری میں ارشاد فرماتے ہیں کہ :
لِلَّهِ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ يَهَبُ لِمَنْ يَشَاءُ إِنَاثًا وَيَهَبُ لِمَنْ يَشَاءُ الذُّكُورَ )49( أَوْ يُزَوِّجُهُمْ ذُكْرَانًا وَإِنَاثًا وَيَجْعَلُ مَنْ يَشَاءُ عَقِيمًا إِنَّهُ عَلِيمٌ قَدِيرٌ)50
( " آسمانوں کی اور زمین کی سلطنت اللہ تعالی ہی کے لئے ہے وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے جس کو چاہتا ہے بیٹیاں دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے بیٹے دیتا ہے یا پھر لڑکے اورلڑکیاں ملا جلا کر دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے بانجھ کر دیتا ہے وہ بڑے علم والا اور کامل قدرت والا ہے ... " اللہ تعالٰی مجھ گناہ گار و ناعاقبت اندیش فرحان سمیت ہم تمام مسلمانان عالم کو ہر حال میں اپنا شکر بجا لانے والا بناتے ہوئے تاحیات عین صراط مستقیم پر چلنے کی کامل توفیق عطا فرمائے آمین ثم آمیـــــــــــــــــن یارب العالمین ...

Comments

Popular posts from this blog

خاوند سارے دن کے کام سے تھکا ہارا گھر واپس لوٹا تو کیا دیکھتا ہے کہ اُس کے تینوںبچے گھر کے سامنے کل رات کے پہنے ہوئے کپڑوں میں ہی مٹی میں لت پت کھیل رہے ہیں،